فلمی غزل
تیرے پیار کی تمنا، غمِ زندگی کے سائے
بڑی تیز آندھیاں ہیں یہ چراغ بجھ نہ جائے
ہے عجیب داستاں کچھ یہ ہماری داستاں بھی
کبھی تم سمجھ نہ پائے، کبھی ہم سنا نہ پائے
نہ فضا ہے اپنے بس میں نہ نظر میں ہے کنارا
کہیں میرے دل کی کشتی نہ بھور میں ڈوب جائے
کوئی حل تو ہی بتا دے میرے دل کی کشمکش کا
تجھے بھولنا بھی چاہوں، تیری یاد بھی ستائے
حسن کمال
No comments:
Post a Comment