Tuesday, 12 April 2022

تصویر بناتا ہوں تری خون جگر سے

 فلمی غزل


تصویر بناتا ہوں تِری خونِ جگر سے

دیکھا ہے تجھے میں نے محبت کی نظر سے

جتنے بھی ملے رنگ وہ سب بھر دئیے تجھ میں

اک رنگِ وفا اور ہے، لاؤں وہ کدھر سے

ساون تِری زلفوں سے گھٹا مانگ کے لایا

بجلی نے چرائی ہے تڑپ تیری نظر سے

میں دل میں بلا کر تجھے رخصت نہ کروں گا

مشکل ہے تِرا لوٹ کے جانا مِرے گھر سے


شکیل بدایونی

No comments:

Post a Comment