ایکمپلشمنٹ
(accomplishment)
کسی پہ کھلتے نہیں ہیں رستے
مسافروں کو پتہ نہیں ہے
سفر میں کیوں ہیں
یقین ہے بس
کہ جب یہ بیڑے
کبھی کناروں پہ آ لگیں گے
تو کوئی ہو گا
جو بانہیں کھولے
تھکے ہووں کو
درونِ دامن سمیٹ لے گا
مگر مورخ نے یہ لکھا ہے
کوئی بھی بیڑا کسی مسافر کو
ساحلوں تک نہیں تھا لایا
سو بانہیں کھولے
سبھی امیدیں
غریقِ گرداب ہو گئی تھیں
حنان حانی
No comments:
Post a Comment