روتا ہوں تو ہنستا ہوں بہت دیدۂ نم پر
یہ کس نے مجھے چھوڑا مِرے رحم و کرم پر
آواز لگاتا ہے یہ مجھ میں کوئی رہرو
چلنا نہ خبردار مِرے نقشِ قدم پر
اس شہر میں قرطاس پہ سچ کس طرح اُترے
تلوار لٹکتی ہو جہاں نوکِ قلم پر
دربار سے چپ چاپ بھی اٹھ سکتے تھے لیکن
دل ہی نہیں راضی ہوا انکار سے کم پر
آخر کو تو مٹی نے مٹانی ہے مِری بھوک
پتھر ہی نہ کیوں باندھ لوں کچھ روز شکم پر
عقیل شاہ
No comments:
Post a Comment