حل ہوئی نہ جو، ایسی پہیلی ہوں میں
اک مصیبت زدہ سی حویلی ہوں میں
ڈس رہی ہیں جسے وقت کی ناگنیں
ایسی مظلوم صورت ہتھیلی ہوں میں
پھٹ پڑی ہیں مرے جسم سے ظلمتیں
دیکھ لے، تیرگی کی سہیلی ہوں میں
جس فسانے میں سب لوگ مر جاتے ہیں
اس کہانی میں زندہ اکیلی ہوں میں
جس کے پتوں سے خوں رِستا ہے رات بھر
ایسی وحشت زدہ سی چمیلی ہوں میں
جانتا ہے مِرا عکس کہ رات دن
کیسے چوٹیں جدائی کی جھیلی ہوں میں
اک ملاقات، اور پھر سزا موت کی
اس پہ ہی زندگانی یہ لے لی ہوں میں
سدرہ غلام رسول
No comments:
Post a Comment