پاؤں تلے خوابوں کے شیشے ٹُوٹ رہے ہیں
کیسے چال چلوں مہرے ٹوٹ رہے ہیں
سر پر آن پڑے جانے کب وقت کا خیمہ
لمحوں سے پیوستہ لمحے ٹوٹ رہے ہیں
کون کسے پہچان کے بانہیں پھیلائے گا
جسم رہے جاتے ہیں چہرے ٹوٹ جاتے ہیں
جن تاروں سے سمتیں پوچھ رہی تھی دنیا
دائیں بائیں آگے پیچھے ٹوٹ رہے ہیں
حمیدہ شاہین
No comments:
Post a Comment