Saturday, 5 February 2022

پھر تقابل میں خجالت کے کھلونے آئے

 پھر تقابل میں خجالت کے کھلونے آئے

ہاتھ میں سنگ اٹھائے ہوئے بونے آئے

یوں تو اب بھی تِرے خط ڈاک میں مل جاتے ہیں

کوئی تحریر تو آنکھوں کو بھگونے آئے

اِس سے پہلے کہ کڑی دھوپ میں میلا ہو بدن

تُو اِسے لمس کی خوشبو سے بھی دھونے آئے

دھیان میں پھر سے گئی رُت کے سہانے سپنے

کرب کے گہرے سمندر میں ڈبونے آئے

قُرب بھی جس کا رہا ہجر کے صحرا کی طرح

اب وہ جذبہ مِرے بستر پہ نہ سونے آئے

پھر فریبوں نے دلِ زار کو زنجیر کیا

پھر مجھے حرفِ تسلی کے کھلونے آئے

میں ترے پھول سے انگاروں کو چھو کر تڑپوں

تیرا بچپن مِرے گھر دودھ بِلونے آئے

اَن کہے لفظ نہ چہرے پہ برہنہ ہو جائیں

تیری آنکھوں میں مِرا خواب نہ رونے آئے

میں تجھے تیری سہیلی کے بدن میں ڈھونڈوں

تو شرارت سے مجھے سوئی چبھونے آئے

کِس کو اُفتاد پڑی ہے کہ اُٹھائے خفت

کون اِس شہر میں اب نیکیاں ڈھونے آئے

آئے بے شک ترے آنگن میں چراغاں کرنے

اپنی پہچان کوئی ہم سا نہ کھونے آئے

التجا ہے نئے موسم کی نمو سے احمد

بے ثمر پیڑ مِرے گھر میں نہ بونے آئے


سید آل احمد

No comments:

Post a Comment