ہوتی ہے اپنی اپنی سبھی کی میاں پسند
تجھ کو درخت، اور مجھے لڑکیاں پسند
تُو وقتِ شام رونقِ بازار میں مگن
اور مجھ کو دوپہر میں کھلی کھڑکیاں پسند
تجھ کو سکون ملتا ہے سکوں کے شور میں
اور مجھ کو کھنکھناتی ہوئی چوڑیاں پسند
کالج پسند تجھ کو ہے اور مجھ کو میرے دوست
کالج کے راستے پہ رواں ٹولیاں پسند
قوسِ قزح تجھے تو مجھے بارشوں کے بعد
قوسِِ قزح کو تکتی ہوئی کہکشاں پسند
مسجد تجھے پسند ہے اور مجھ کو وقتِ عصر
گاؤں، دھوئیں کے ابر، کبوتر، اذاں پسند
مجھ کو پسند پھول سے بچے، شرارتیں
مجھ کو ہنسی پسند،۔ مجھے تالیاں پسند
تجھ کو سُروں سے بیر ہے اور مجھ کو دوستا
روہی پسند، گیت پسند، ریشماں پسند
تُو عقل کا اسیر ہے میں ہوں غلامِ عشق
تجھ کو زمیں پسند،۔ مجھے آسماں پسند
افتخار حیدر
No comments:
Post a Comment