دوشِ ہوا کے سات بہت دُور تک گئی
خوشبو اُڑی تو رات بہت دور تک گئی
بادل برس رہا تھا کہ اک اجنبی کی چاپ
شب رکھ کے دل پہ ہات بہت دور تک گئی
یہ اور بات لب پہ تھی افسردگی کی مہر
خورشید کی تلاش میں نکلا جو گھر سے میں
تاریکئ حیات بہت دور تک گئی
احمؔد سفر کی شام عجب مہرباں ہوئی
اک عمر میرے سات بہت دور تک گئی
سید آل احمد
No comments:
Post a Comment