Thursday, 8 December 2016

دوش ہوا کے سات بہت دور تک گئی

دوشِ ہوا کے سات بہت دُور تک گئی
خوشبو اُڑی تو رات بہت دور تک گئی
بادل برس رہا تھا کہ اک اجنبی کی چاپ
شب رکھ کے دل پہ ہات بہت دور تک گئی
یہ اور بات لب پہ تھی افسردگی کی مہر
برقِ تبسمات بہت دور تک گئی
خورشید کی تلاش میں نکلا جو گھر سے میں
تاریکئ حیات بہت دور تک گئی
احمؔد سفر کی شام عجب مہرباں ہوئی
اک عمر میرے سات بہت دور تک گئی

سید آل احمد

No comments:

Post a Comment