رُکتے نہیں جور و ستم، ہم پھر بھی پُر اُمید ہیں
ہیں مبتلائے درد و غم، ہم پھر بھی پر امید ہیں
ہیں کب سے ہم نوحہ کناں، سُنتا نہیں کوئی یہاں
گو ہیں بہت رنج و الم، ہم پھر بھی پر امید ہیں
اہلِ زمیں بے داد ہیں، اہلِ فلک ناشاد ہیں
کوئی نہیں لطف و کرم، ہم پھر بھی پر امید ہیں
کانٹوں بھری ہے رہگزر، رستہ ہے سارا پُر خطر
دشواریاں ہیں ہر قدم، ہم پھر بھی پر امید ہیں
دین و دھرم کی آڑ میں ہر ظلم ہوتا ہے یہاں
ہیں بِک چکے دیر و حرم، ہم پھربھی پر امید ہیں
جیتیں گےظالموں سےہم اک دن یہ جنگ دیکھنا
ہے جسم زخم ہا زخم، ہم پھر بھی پر امید ہیں
مجھ کو یقیں ہے ایک دن آئے گا پھر اک بُت شکن
ہیں کعبہؑ دل میں صنم، ہم پھر بھی پر امید ہیں
چیخیں گے سارے ایک دن شاہد وطن کے درد میں
چُپ ہیں ابھی اہلِ قلم، ہم پھر بھی پر امید ہیں
شاہد حسین
No comments:
Post a Comment