کچھ بھیک سے امید کو بہلا کے رکھا ہے
کشکول نے اس قوم کو چکرا کے رکھا ہے
مجنوں کی وراثت کا وہ حق دار نہیں ہے
جس نے بھی قدم دشت میں گھبرا کے رکھا ہے
سینے سے نہ نکلے کسی خوش شکل کی خاطر
میں نے دل بے تاب کو سمجھا کے رکھا ہے
زرے ہیں مِری خاک کے تارے تو نہیں ہیں
ترتیب سے خود میں نے انہیں جا کے رکھا ہے
دنیا سے غرض جن کو ہے وہ آ کے اٹھا لے
میں نے در کُٹیا پہ اسے لا کے رکھا ہے
سمجھوں گا بھلا زیست کے اسرار میں کیسے
بچوں نے مِرے ذہن کو الجھا کے رکھا ہے
آثار بتاتے ہیں کہ اس دشت کے اندر
صدیوں نے کسی شہر کو دفنا کے رکھا ہے
آنے کی خبر ملتے ہی ہم نے تِری خاطر
آج انجم و مہتاب کو بُلوا کے رکھا ہے
عمران انجم
No comments:
Post a Comment