Sunday, 11 June 2023

کچھ بھیک سے امید کو بہلا کے رکھا ہے

 کچھ بھیک سے امید کو بہلا کے رکھا ہے

کشکول نے اس قوم کو چکرا کے رکھا ہے

مجنوں کی وراثت کا وہ حق دار نہیں ہے

جس نے بھی قدم دشت میں گھبرا کے رکھا ہے

سینے سے نہ نکلے کسی خوش شکل کی خاطر

میں نے دل بے تاب کو سمجھا کے رکھا ہے

زرے ہیں مِری خاک کے تارے تو نہیں ہیں

ترتیب سے خود میں نے انہیں جا کے رکھا ہے

دنیا سے غرض جن کو ہے وہ آ کے اٹھا لے

میں نے در کُٹیا پہ اسے لا کے رکھا ہے

سمجھوں گا بھلا زیست کے اسرار میں کیسے

بچوں نے مِرے ذہن کو الجھا کے رکھا ہے

آثار بتاتے ہیں کہ اس دشت کے اندر

صدیوں نے کسی شہر کو دفنا کے رکھا ہے

آنے کی خبر ملتے ہی ہم نے تِری خاطر

آج انجم و مہتاب کو بُلوا کے رکھا ہے


عمران انجم

No comments:

Post a Comment