جو مجھ سے اس نے منہ موڑا تو چھوڑا
وہ جب خود میں ہوا چوڑا تو چھوڑا
جو باہم پیار تھا کم کرتے کرتے
کیا اس نے بہت تھوڑا تو چھوڑا
کسی کے ہو گئے ہم ہو گئے ہم
کسی کو ہم نے جب چھوڑا تو چھوڑا
گلوں کو خار سے کم تر کہا اور
گدھے کو کہہ گیا گھوڑا تو چھوڑا
نہ بنتی تھی کسی سے اس کی جوڑی
مجھے اس شخص سے جوڑا تو چھوڑا
تمنا تھی بنوں زلفوں کا قیدی
نگاہوں کا لگا کوڑا تو چھوڑا
ہمارے ہاتھ پاؤں توڑ دیتا
ہمارا اس نے دل توڑا تو چھوڑا
دلوں کی دھڑکنیں بیٹھیں تو پکڑا
رگوں میں خون جب دوڑا تو چھوڑا
ہماری محفلوں میں اس نے دانش
لبادہ غیر کا اوڑھا تو چھوڑا
احسان علی دانش
No comments:
Post a Comment