Friday, 7 July 2023

جو مجھ سے اس نے منہ موڑا تو چھوڑا

 جو مجھ سے اس نے  منہ موڑا تو چھوڑا

وہ جب خود میں ہوا چوڑا تو چھوڑا

جو باہم  پیار تھا کم  کرتے کرتے

کیا اس نے بہت تھوڑا تو چھوڑا

کسی کے ہو گئے ہم ہو گئے ہم

کسی کو ہم نے جب چھوڑا تو چھوڑا

گلوں کو خار سے کم تر کہا اور

گدھے کو کہہ گیا گھوڑا تو چھوڑا

نہ بنتی تھی کسی سے اس کی جوڑی

مجھے اس شخص سے جوڑا تو چھوڑا

تمنا تھی بنوں زلفوں  کا  قیدی

 نگاہوں کا لگا کوڑا تو چھوڑا

ہمارے ہاتھ پاؤں توڑ دیتا

ہمارا اس نے دل توڑا تو چھوڑا

دلوں کی دھڑکنیں بیٹھیں تو پکڑا

رگوں میں خون جب دوڑا تو چھوڑا

ہماری محفلوں میں اس نے دانش

لبادہ غیر کا اوڑھا تو چھوڑا


احسان علی دانش

No comments:

Post a Comment