سانحۂ شتیال
کتنے چہروں کی رونق ہوا ہو گئی
زیست کتنوں سے یک دم خفا ہو گئی
خواب پہنچے نہیں کتنے تعبیر تک
کتنے چہرے رہے صرف تصویر تک
کتنی ماؤں کے فرزند جاں کھو گئے
کتنی ماؤں کے فرزند ماں کھو گئے
کتنے چہرے پلٹ کر نہیں آ سکے
لوگ کتنے ہی منزل نہیں پا سکے
سایۂ پِدر کتنوں کے سر سے اٹھا
جانے کس کس کا لاشہ تھا گھر سے اٹھا
کتنے چہرے حزِیں تھے حزِیں رہ گئے
لوگ کتنے کہیں تھے، کہیں رہ گئے
سانحے وقت در وقت ہوتے رہے
حاکمِ شہر سوتے تھے، سوتے رہے
حسنین قاسمی
No comments:
Post a Comment