Friday, 7 July 2023

کتنے چہروں کی رونق ہوا ہو گئی

  سانحۂ شتیال


کتنے چہروں کی رونق ہوا ہو گئی

زیست کتنوں سے یک دم خفا ہو گئی

خواب پہنچے نہیں کتنے تعبیر تک

کتنے چہرے رہے صرف تصویر تک

کتنی ماؤں کے فرزند جاں کھو گئے

کتنی ماؤں کے فرزند ماں کھو گئے

کتنے چہرے پلٹ کر نہیں آ سکے

لوگ کتنے ہی منزل نہیں پا سکے

سایۂ پِدر کتنوں کے سر سے اٹھا

جانے کس کس کا لاشہ تھا گھر سے اٹھا

کتنے چہرے حزِیں تھے حزِیں رہ گئے

لوگ کتنے کہیں تھے، کہیں رہ گئے

سانحے وقت در وقت ہوتے رہے

حاکمِ شہر سوتے تھے، سوتے رہے


حسنین قاسمی

No comments:

Post a Comment