حالِ دلِ ویراں پہ ہنسا کون کرے گا؟
یہ کام بھی اپنوں کے سوا کون کرے گا
محروم تیرے قُرب سے بے شک کرے کوئی
پر تجھ کو میرے دل سے جدا کون کرے گا
ہوں تیرے تصور میں خبر بھی نہیں اپنی
اس طرح تجھے پیار بتا کون کرے گا
دو دن تیری دنیا میں جیا تھا میرے مالک
یہ قرض میرے بعد ادا کون کرے گا
دیوانہ تھا اِک شہر میں وہ مَر گیا کل شب
اب تجھ سے محبت کا گِلہ کون کرے گا
میں آئینے کے سامنے بیٹھا تو ہوں حسنی
اب دیکھیے آغازِ جفا کون کرے گا
غلام حسن حسنی
No comments:
Post a Comment