Friday, 7 July 2023

نار کو نور تعصب کو مساوات لکھو

 ہوا جانتی ہے


نار کو نور

تعصب کو مساوات لکھو

عہدِ ابلیس کو آدم کی فتوحات لکھو

خود کشی قتل کو

چیخوں کو مناجات لکھو

لبِ گویا کی جزا سلسلۂ طوق لکھو

جھوٹ لکھنا ہے مؤرخ! تو بصد شوق لکھو

گُرگِ شب زاد کے حیلوں کو یہ پہچانتی ہے

حاشیہ متن میں کتنا ہے، ہوا جانتی ہے

وقت اقلیم تھا جن کی وہ سبک سار ہوئے

جانے کس نیند کے ہنگام سے دو چار ہوئے

اب جو کروٹ پہ زمانے کی پڑے جلتے ہیں

حُرمتِ درد کے رشتے میں پروئے ہوئے لوگ

زخمِ ادراک کا سرمایہ لیے چلتے ہیں

جن کا منصب نہ ٹھکانہ، نہ نسب ہے کوئی

جن کے چہرے ہیں تواریخ کےگم گشتہ ورق

سدرۃالعشق کی پُر پیچ مُسافت میں جنہیں

یاد بھی ایک سی تہمت ہے، فراموشی بھی

(زندگی اہلِ تأسف پہ ہی موقوف نہیں)


ناہید قمر

No comments:

Post a Comment