Friday, 7 July 2023

دنیا سراب اس کے نظارے فریب ہیں

 دنیا سراب، اس کے نظارے فریب ہیں

منظر ہماری آنکھ کے سارے فریب ہیں

اِن کی چمک کو دیکھ کے دھوکہ نہ کھائیے

یہ آسماں، یہ چاند ستارے فریب ہیں

سچ یہ ہے ایک بحرِ بیکراں ہے چار سُو

اس بحرِ بیکراں کے کنارے فریب ہیں

چشمِ یقین جانتی ہے اِن کی حقیقت

طوفانِ موجزن کے یہ دھارے فریب ہیں

میں جانتا ہوں تیری حقیقت مجھے نہ تاڑ

لیلٰئ دہر! تیرے اشارے فریب ہیں

صیاد جانتا ہے کہ کانٹا نگل گئی

مچھلی کو کیا خبر ہے یہ چارے فریب ہیں

دھوکہ نہ کھاؤ اہلِ سیاست سے مُفلسو

روٹی، مکان، کپڑا کے نعرے فریب ہیں

اولاد، مال و زر ہو کہ رشتے تعلقات

شاہد یقیناً سارے ہمارے فریب ہیں


شاہد حسین

No comments:

Post a Comment