عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یہ دھوپ ہوا ابر گھٹا جھوم رہی ہے
رقصاں ہے کرن باد صبا جھوم رہی ہے
ہونٹوں پہ مسرت کی دعا جھوم رہی ہے
عالم میں کوئی بگڑی ہوئی بات بھی ہے
وہ فاطمہؑ کا لال حسینؑ ابن علیؑ ہے
وہ جس کا لہو رنگ حنا ہوگیا دیں کا
وہ جس کی شکست نام ہے ایک فتح مبیں کا
وہ ماہ مکمل تھا زمانے میں زمیں کا
وہ جس کی سواری بھی رسول عربی ہے
وہ فاطمہؑ کا لال حسینؑ ابن علیؑ ہے
وہ جس کی تلک تک ہے اسی تک کی تلک تک
حیوان سے انسان تلک حور و ملک تک
ان اپنی زمینوں سے تا فلکوں کے فلک تک
ہر شے کو خوشی ہے تو یہی ایک خوشی ہے
وہ فاطمہؑ کا لال حسینؑ ابن علیؑ ہے
جب پیش عدو ہوگئے تنہا میرے مولا
دشمن کی صفوں میں زرا گھوڑے کو دوڑایا
کہتے رہے آپس میں یہ سہمے ہوئے اعدا
جرأت تو علیؑ کی ہے عزم مصطفویؐ ہے
وہ فاطمہؑ کا لال حسینؑ ابن علیؑ ہے
کیا بات ہے اے خالق اکبر کا سپاہی
دشمن پہ چڑھا فاتح خیبر کا سپاہی
حیدر ہی لگا رن میں یہ حیدر کا سپاہی
اعدا نے کہا مل کے ارے یہ تو وہی ہے
وہ فاطمہؑ کا لال حسینؑ ابن علیؑ ہے
یہ دھوپ یہ صحرا یہ تمازت علی اصغرؑ
یہ بات یہ بیٹا یہ محبت علی اصغرؑ
یہ پیاس یہ دریا یہ عداوت علی اصغرؑ
جو پیاس بجھی بھی تو کہوں کیسے بجھی ہے
وہ فاطمہؑ کا لال حسینؑ ابن علیؑ ہے
ہم حق کے سپاہی ہیں سدا لڑتے رہیں گے
منزل کی طرف شوق سے ہم بڑھتے رہیں گے
کلمہ تو محمدﷺ کا ہی ہم پڑھتے رہیں گے
ہم جنگ لڑیں گے ہمیں نے جنگ لڑی ہے
وہ فاطمہؑ کا لال حسینؑ ابن علیؑ ہے
اتنی سے گزارش لیے حاضر ہے شہہ دیں
احسانؓ تیرے دین کا ہے شاعر رنگیں
آک تیری نظر اس کے لیے ہے بڑی تحسیں
ہے ناز یہی اس کو کہ وہ پنجتنی ہے
وہ فاطمہؑ کا لال حسینؑ ابن علیؑ ہے
احسان علی دانش
No comments:
Post a Comment