Sunday, 11 June 2023

فضائے عشق ہے، کیسی پریشانی مدینے میں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


 فضائے عشق ہے، کیسی پریشانی مدینے میں؟

ملے گی قلب کو تسکینِ روحانی مدینے میں

تقاضا عشق کا یہ ہے، کہ فرطِ شادمانی سے

درِ سرکارؐ پہ رکھ دوں میں پیشانی مدینے میں

نظر میں گنبدِ خضرا ہو اپنی، تا دمِ آخر

عطا ہو اے خدا ! اک عمرِ طولانی مدینے میں

کرے گا رشک میری نوکری پر خلد کا رضواں

جو مل جائے درِ آقاﷺ کی دربانی مدینے میں

ہے یہ باغِ محمدﷺ کے گلوں کی عطر افشانی

یہ خوشبو ہر طرف ہے جانی پہچانی مدینے میں

یہاں تم با وضو ہو کر قدم رکھنا مسلمانو

کہ اتری ہیں یہاں آیاتِ قرآنی مدینے میں

اگر سمجھو تو یہ صدقہ یقیناً کربلا کا ہے

میاں تم پی رہے ہو یہ جو یخ پانی مدینے میں

ہو صحنِ روضۂ جاناں، قلم قرطاس ہاتھوں میں

تمنا ہے لکھوں اشعارِ عرفانی مدینے میں

جِھڑک دیتے ہیں اب بھی بے سبب تعظیمِ الفت پر

نظر آتے ہیں چہرے اب بھی سفیانی مدینے میں

ندامت ہے گناہوں پر، وسیم امید ہے، لیکن

وہ بخشیں گے مِری ہر ایک نادانی مدینے میں


وسیم عباس حیدری

No comments:

Post a Comment