سکوں تمہیں بھی نہیں ہم کو بھی قرار نہیں
کہ رنگِ موسم گل اب کے سازگار نہیں
ابھی نہ ساز طرب پر کوئی غزل چھیڑو
ابھی حیات کا ماحول خوش گوار نہیں
کہاں کہاں سے سنا ئیں حدیثِ دیدہ و دل
حساب درد نہیں،۔ زخم کا شمار نہیں
تغیّر آشنا ہر چیز ہے زمانے میں
کسی بھی شے کو ہمیشہ یہاں قرار نہیں
شگفتِ گل سے اسے ہم کشید کر لیں گے
تِری ہنسی پہ مسرت کا انحصار نہیں
ہمیں نے اپنے چمن سے لہو کو سینچا ہے
کسی کلی پہ ہمارا ہی اختیار نہیں
خوشی کے لمحے کبھی معتبر نہ تھے مسرور
جو سوچئے تو غموں کا بھی اعتبار نہیں
انس مسرور
No comments:
Post a Comment