نہیں کچھ شوق اپنی نیت و فطرت بدلنے کا
ہنر آیا نہیں ہم کو ہر اک سانچے میں ڈھلنے کا
گھٹن اور حبس بڑھ جائے تو بینائی کو خطرہ ہے
کوئی رستہ ضروری ہے ہواؤں کے گزرنے کا
بھلا کیسے سمیٹیں خود کو اب ممکن نہیں شاید
کہ اک مدت سے جاری ہے عمل اپنے بکھرنے کا
شب ظلمت میں اب کے وہ سحر کی آرزو پالے
دیا بن کر اندھیروں میں جسے ہو شوق جلنے کا
ہمیں احباب دیکھیں اور انگشت بہ دنداں ہوں
اگر جو وقت مل جائے کبھی بننے سنورنے کا
گزارش ہے کہ اے عمر رواں! بس ساتھ دینا تم
تھکاوٹ میں بھی قائم حوصلہ اب تک ہے چلنے کا
مسلسل غلطیاں طاہر سے یا رب ہوتی جاتی ہیں
خدائے پاک موقع دے ہمیں پھر سے سنبھلنے کا
طاہر مسعود
No comments:
Post a Comment