آپ ملتے ہیں تو آتی ہیں بہت یاد ہمیں
وہ دعائیں جو دیا کرتے تھے اجداد ہمیں
وہ محبت کے محلے میں گزارے ہوئے دن
کئے رکھتے ہیں بہت دیر تک آباد ہمیں
کس نے اک لمس کو پوروں سے رہائی بخشی
کس نے چُھو کر نہ کیا قید سے آزاد ہمیں
کیوں نہ زنجیر ہلائی گئی ہاتھوں سے کبھی
کیوں بنایا گیا پا بستۂ فریاد ہمیں
کیوں وہ شعلہ نہ اٹھا رات چراغوں سے نفیس
کیوں تماشا نہ ہوئی وصل کی افتاد ہمیں
کامران نفیس
No comments:
Post a Comment