Saturday, 5 February 2022

آپ ملتے ہیں تو آتی ہیں بہت یاد ہمیں

 آپ ملتے ہیں تو آتی ہیں بہت یاد ہمیں

وہ دعائیں جو دیا کرتے تھے اجداد ہمیں

وہ محبت کے محلے میں گزارے ہوئے دن

کئے رکھتے ہیں بہت دیر تک آباد ہمیں

کس نے اک لمس کو پوروں سے رہائی بخشی

کس نے چُھو کر نہ کیا قید سے آزاد ہمیں

کیوں نہ زنجیر ہلائی گئی ہاتھوں سے کبھی

کیوں بنایا گیا پا بستۂ فریاد ہمیں

کیوں وہ شعلہ نہ اٹھا رات چراغوں سے نفیس

کیوں تماشا نہ ہوئی وصل کی افتاد ہمیں


کامران نفیس

No comments:

Post a Comment