Saturday, 5 February 2022

دور صحرا میں جہاں دھوپ شجر رکھتی ہے

 دور صحرا میں جہاں دھوپ شجر رکھتی ہے

آنکھ کیا شے ہے کہاں جا کے نظر رکھتی ہے

اور کچھ روز ابھی صور نہ پھونکا جائے

اس کے دربار میں دنیا ابھی سر رکھتی ہے

لوگ منزل پہ بہت خوش ہیں مگر منزل بھی

لمحہ لمحہ پسِ امکان سفر رکھتی ہے

آؤ اس شخص کی روداد سنیں، غور کریں

سرخ روئی بھی جسے خاک بسر رکھتی ہے

یہ ذہانت جو وراثت کی عطا ہے شاہد

کوئی دیوار اٹھاتی ہے تو در رکھتی ہے


شاہد لطیف

No comments:

Post a Comment