ہمیں ہنستے ہنستے یوں رونا پڑا ہے
کہ کانٹوں کے بستر پہ سونا پڑا ہے
جسے آئینہ مان رکھا تھا دل نے
اسے آج بے عکس ہونا پڑا ہے
تمہیں ریزہ ریزہ سمیٹا ہے لیکن
ہتھیلی کو خوں میں ڈبونا پڑا ہے
ہری ہو سکے درد کھیتی تیری پھر
ہمیں لا تعلق سا ہونا پڑا ہے
دھندلا نہ ڈالیں یہ وسواس بادل
تو کرنوں سے سورج کو دھونا پڑا ہے
سر عام جب لے ہی آئے ہو قصے
مجھے لب زہر میں بھگونا پڑا ہے
جو آنکھ کا نور بن کے رہا تھا
زمانے کی خاطر وہ کھونا پڑا ہے
رخسانہ نور
No comments:
Post a Comment