Saturday, 5 February 2022

ہمیں ہنستے ہنستے یوں رونا پڑا ہے

 ہمیں ہنستے ہنستے یوں رونا پڑا ہے

کہ کانٹوں کے بستر پہ سونا پڑا ہے

جسے آئینہ مان رکھا تھا دل نے

اسے آج بے عکس ہونا پڑا ہے

تمہیں ریزہ ریزہ سمیٹا ہے لیکن

ہتھیلی کو خوں میں ڈبونا پڑا ہے

ہری ہو سکے درد کھیتی تیری پھر

ہمیں لا تعلق سا ہونا پڑا ہے

دھندلا نہ ڈالیں یہ وسواس بادل

تو کرنوں سے سورج کو دھونا پڑا ہے

سر عام جب لے ہی آئے ہو قصے

مجھے لب زہر میں بھگونا پڑا ہے

جو آنکھ کا نور بن کے رہا تھا

زمانے کی خاطر وہ کھونا پڑا ہے


رخسانہ نور

No comments:

Post a Comment