Thursday, 17 March 2022

اس لئے کہہ رہا ہوں کچھ تو نرالا ہوا ہے

 اس لیے کہہ رہا ہوں کچھ تو نرالا ہوا ہے

مدتوں بعد میرے گھر میں اجالا ہوا ہے

تم نے لگتا ہے فقط نام سنا ہے شاید

میں نے تو عشق کا ہر باب کھنگالا ہوا ہے

کچھ تو میں عشق میں مرنے کا نہیں ہوں قائل

اور کچھ موت نے بھی لگتا ہے ٹالا ہوا ہے

بس تیرے نام سے پہچان بنی ہے میری

معتبر میرے لیے تیرا حوالہ ہوا ہے

تم نے اب بزم میں اغیار بٹھا رکھے ہیں

اپنے اپنوں کو میری جان نکالا ہوا ہے

مجھ کو لگتا ہے مجھے چین نہیں مل سکتا

میری سوچوں نے مجھے سوچ میں ڈالا ہوا ہے

دیکھنا تم کہ یہ فولاد بنے گا اک دن

جس کو حالات کی گردش نے اچھالا ہوا ہے

حکمرانوں تمہیں کچھ شرم و حیا ہے کہ نہیں

خواہ مخواہ کرب میں ہر ایک کو ڈالا ہوا ہے


اشرف علی

No comments:

Post a Comment