اس لیے کہہ رہا ہوں کچھ تو نرالا ہوا ہے
مدتوں بعد میرے گھر میں اجالا ہوا ہے
تم نے لگتا ہے فقط نام سنا ہے شاید
میں نے تو عشق کا ہر باب کھنگالا ہوا ہے
کچھ تو میں عشق میں مرنے کا نہیں ہوں قائل
اور کچھ موت نے بھی لگتا ہے ٹالا ہوا ہے
بس تیرے نام سے پہچان بنی ہے میری
معتبر میرے لیے تیرا حوالہ ہوا ہے
تم نے اب بزم میں اغیار بٹھا رکھے ہیں
اپنے اپنوں کو میری جان نکالا ہوا ہے
مجھ کو لگتا ہے مجھے چین نہیں مل سکتا
میری سوچوں نے مجھے سوچ میں ڈالا ہوا ہے
دیکھنا تم کہ یہ فولاد بنے گا اک دن
جس کو حالات کی گردش نے اچھالا ہوا ہے
حکمرانوں تمہیں کچھ شرم و حیا ہے کہ نہیں
خواہ مخواہ کرب میں ہر ایک کو ڈالا ہوا ہے
اشرف علی
No comments:
Post a Comment