عشق ہے یار کا خدا حافظ
امر دشوار کا خدا حافظ
پیچ مجھ پر پڑے جو پڑنا ہو
زلفِ خمدار کا خدا حافظ
سر جو ٹکراتا ہوں تو کہتے ہیں
میری دیوار کا خدا حافظ
سرفروشوں کی چشم بد نہ پڑے
ان کی تلوار کا خدا حافظ
دفن ہم ہو چکے تو کہتے ہیں
اس گنہ گار کا خدا حافظ
دشت چھوٹا تو آبلوں نے کہا
یاں کے ہر خار کا خدا حافظ
بات کرنے میں ہونٹ لڑتے ہیں
ایسے تکرار کا خدا حافظ
بلبلیں قید، باغباں غافل
گلِ زردار کا خدا حافظ
گر سخی کو ہے عشق کا آزار
ایسے بیمار کا خدا حافظ
سخی لکھنوی
No comments:
Post a Comment