Thursday, 10 June 2021

عشق ہے یار کا خدا حافظ

 عشق ہے یار کا خدا حافظ

امر دشوار کا خدا حافظ

پیچ مجھ پر پڑے جو پڑنا ہو

زلفِ خمدار کا خدا حافظ

سر جو ٹکراتا ہوں تو کہتے ہیں

میری دیوار کا خدا حافظ

سرفروشوں کی چشم بد نہ پڑے

ان کی تلوار کا خدا حافظ

دفن ہم ہو چکے تو کہتے ہیں

اس گنہ گار کا خدا حافظ

دشت چھوٹا تو آبلوں نے کہا

یاں کے ہر خار کا خدا حافظ

بات کرنے میں ہونٹ لڑتے ہیں

ایسے تکرار کا خدا حافظ

بلبلیں قید، باغباں غافل

گلِ زردار کا خدا حافظ

گر سخی کو ہے عشق کا آزار

ایسے بیمار کا خدا حافظ


سخی لکھنوی

No comments:

Post a Comment