صدر دروازے پہ منتظر
جانے کس کی لو کا پرتو
پل پل جلتی بجھتی آنکھیں
جانے کس کی مدھ بھری مُسکان کا حیلہ
ڈانواں ڈول لرزتی بستی
اک بے انت سا عالم ہے
اک پیہم سی گردش ہے
اک اندھا سا ہالہ ہے
اور ہالے میں گم سم روحیں
آگاہی کا بھاری پتھر سر پر اٹھائے
عدم آگاہی کے محلوں کے
در کھلنے کی آشا باندھے
صدیوں سے لائن میں لگی ہیں
پہلے کس کی مُکتی ہو گی
پروین طاہر
No comments:
Post a Comment