Thursday, 10 June 2021

جانے کس کی لو کا پرتو

 صدر دروازے پہ منتظر


جانے کس کی لو کا پرتو

پل پل جلتی بجھتی آنکھیں

جانے کس کی مدھ بھری مُسکان کا حیلہ

ڈانواں ڈول لرزتی بستی

اک بے انت سا عالم ہے

اک پیہم سی گردش ہے

اک اندھا سا ہالہ ہے

اور ہالے میں گم سم روحیں

آگاہی کا بھاری پتھر سر پر اٹھائے

عدم آگاہی کے محلوں کے

در کھلنے کی آشا باندھے

صدیوں سے لائن میں لگی ہیں

پہلے کس کی مُکتی ہو گی


پروین طاہر

No comments:

Post a Comment