Thursday, 10 June 2021

مانا کہ اب وہ پہلی سی فرصت نہیں اسے

 مانا کہ اب وہ پہلی سی فرصت نہیں اُسے

کیسے یہ مان لوں کہ محبت نہیں اسے

تیور بتا رہے ہیں سبھی حالِ دل مجھے

لفظوں کے پیرہن کی ضرورت نہیں اسے

غمگین بھی ہے ترکِ مراسم پہ وہ مگر

لہجے کی تلخیوں پہ ندامت نہیں اسے

رہتا ہے التفات میں وہ دوستوں کے گم

ایسے میں دشمنوں کی ضرورت نہیں اسے

کرتا وہ کیا وضاحتِ پہلو تہی رضا

میں جانتا ہوں اس کی بھی عادت نہیں اسے


ابن رضا 

No comments:

Post a Comment