آرزو پھر جگا کے حد کر دی
عشقِ آتش لگا کے حد کر دی
زندگی سے میری جا کے حد کر دی
یاد کا گھر بسا کے حد کر دی
یہ بخیلی مبارک ہو تجھ کو
میں نے آنسو پلا کے حد کر دی
رسمِ الفت سے ناواقف ہوں میں
میں نے اس کو بُھلا کے حد کر دی
اس نے راہوں میں آگ بھر دی جو
ہم نے چل کر دکھا کے حد کر دی
تو وف اڈھونڈ مت زمانے میں
میں نے سب کو بُھلا کے حد کر دی
اب وفا مل کتاب میں جائے
اس نے قصہ سنا کر حد کر دی
ایک دل میں ہزار خانے ہیں
ہاتھ اپنا چُھڑا کے حد کر دی
مسکراہٹ سے بیر تھا تجھ کو
اشکِ فرقت بہا کے حد کر دی
جبیں نازاں
No comments:
Post a Comment