دھڑکنوں سے فرار تھے ہم تو
رات بھر بے قرار تھے ہم تو
ان کی آمد کے پھول کھلتے تھے
گلشنِ انتظار تھے ہم تو
آپ نے چاند بن کے چمکایا
راستے کا غبار تھے ہم تو
خوف کیوں تربتوں سے کھاتے ہو
پاسدارِ مزار تھے ہم تو
کیوں مجھے یوں اتار دیتے ہو
تیری باہوں کا ہار تھے ہم تو
ایک بس آپ کے لیے ہمدم
جامۂ تار تار تھے ہم تو
گرچہ آفاق دلربا تھے کئی
تیری چاہت میں خوار تھے ہم تو
آفاق دلنوی
آفاق احمد راتھر
No comments:
Post a Comment