Friday, 18 March 2022

دھڑکنوں سے فرار تھے ہم تو

 دھڑکنوں سے فرار تھے ہم تو

رات بھر بے قرار تھے ہم تو

ان کی آمد کے پھول کھلتے تھے

گلشنِ انتظار تھے ہم تو

آپ نے چاند بن کے چمکایا

راستے کا غبار تھے ہم تو

خوف کیوں تربتوں سے کھاتے ہو

پاسدارِ مزار تھے ہم تو

کیوں مجھے یوں اتار دیتے ہو

تیری باہوں کا ہار تھے ہم تو

ایک بس آپ کے لیے ہمدم

جامۂ تار تار تھے ہم تو

گرچہ آفاق دلربا تھے کئی

تیری چاہت میں خوار تھے ہم تو


آفاق دلنوی

آفاق احمد راتھر

No comments:

Post a Comment