عارفانہ کلام نعتیہ کلام
چھائی ہوئی عالم پہ قیامت کی گھٹا ہے
بدلی ہوئی دنیا میں زمانے کی ہوا ہے
گردش میں مسلماں ہیں فلک کانپ رہا ہے
غیروں کی شکایت نہیں اپنی ہی خطا ہے
’’اے خاصۂ خاصانِ رُسل وقتِ دعا ہے’’
’’اُمت پہ تِری آ کے عجب وقت پڑا ہے‘‘
اے ختم رسلﷺ، فخرِ عرب، شانِ مدینہ
اے حامیِ کل، رحمتِ حقﷺ، جانِ مدینہ
قائم ہے تِرے نام سے ایوانِ مدینہ
اللہ کی مخلوق میں تو سب سے بڑا ہے
’’اے خاصۂ خاصانِ رسل وقتِ دعا ہے’’
’’اُمت پہ تری آ کے عجب وقت پڑا ہے‘‘
اسلام پہ پھر دشمنِ دیں ٹوٹ پڑے ہیں
غارت گرِ ایمان تباہی پہ اڑے ہیں
جھنڈے تِرے ہر سمت خدائی میں گڑے ہیں
جب چاہا ہے کفار کا رخ موڑ دیا ہے
’’اے خاصۂ خاصانِ رسل وقتِ دعا ہے’’
’’اُمت پہ تری آ کے عجب وقت پڑا ہے‘‘
وہ تیرے مہاجر تیرے انصار کہاں ہیں
جو بدر و احد میں تھے وہ سردار کہاں ہیں
مکے میں جو تھے ساتھ وہ دو چار کہاں ہیں
کچھ دیر کو پھر وقت انہیں مانگ رہا ہے
’’اے خاصۂ خاصانِ رسل وقتِ دعا ہے’’
’’اُمت پہ تِری آ کے عجب وقت پڑا ہے‘‘
کفار کے نرغے میں ہے اسلام کا عالم
جو خاص کا عالم ہے وہی عام کا عالم
ہو مصر کا، اردن کا کہ ہو شام کا عالم
ہر صاحبِ ایمان کے لب پر یہ صدا ہے
’’اے خاصۂ خاصانِ رسل وقتِ دعا ہے’’
’’اُمت پہ تِری آ کے عجب وقت پڑا ہے‘‘
اغیار کی ہیں گنبدِ خضرا پہ نگاہیں
مسدود ہوئی جاتی ہیں ہیں ایمان کی راہیں
اسلام کے سینے سے نکلنے لگی آہیں
فاران کی چوٹی پہ بڑا شور مچا ہے
’’اے خاصۂ خاصانِ رسل وقتِ دعا ہے’’
’’اُمت پہ تِری آ کے عجب وقت پڑا ہے‘‘
اے قبلۂ اول کے نگہباں مِری سن لے
اے عرش پہ اللہ کے مہماں مِری سن لے
اے قبلۂ دیں کعبۂ ایماں مِری سن لے
جو تیری رضا ہے وہی خالق کی رضا ہے
’’اے خاصۂ خاصانِ رسل وقتِ دعا ہے’’
’’اُمت پہ تِری آ کے عجب وقت پڑا ہے‘‘
منور بدایونی
No comments:
Post a Comment