Saturday, 11 March 2023

یہ کس ماحول میں لایا گیا ہے

 یہ کس ماحول میں لایا گیا ہے

کفن کا طوق پہنایا گیا ہے

عبث برہم نہیں ہوں اے فرشتو

مجھے زندہ ہی دفنایا گیا ہے

وہ دیکھو میرے مرتے ہی رقیبو

مجھے فوٹو پہ لٹکایا گیا ہے

ہمارا پیار بھی کشمیر سا ہے

تبھی نفرت میں الجھایا گیا ہے

میں زندہ تھا تو بوسیدہ پڑا تھا

مَرا تو خوب چمکایا گیا ہے

خدایا تم سے ملنا چاہتا تھا

تبھی آتش میں نہلایا گیا ہے

یہ خیمہ باغِ جنت میں لگا دو

اسے کربل میں جھلسایا گیا ہے

جگر میں حیدریؑ لالی ہے آفاق

تبھی سینے میں ٹھہرایا گیا ہے


آفاق دلنوی

آفاق احمد راتھر

No comments:

Post a Comment