یہ کس ماحول میں لایا گیا ہے
کفن کا طوق پہنایا گیا ہے
عبث برہم نہیں ہوں اے فرشتو
مجھے زندہ ہی دفنایا گیا ہے
وہ دیکھو میرے مرتے ہی رقیبو
مجھے فوٹو پہ لٹکایا گیا ہے
ہمارا پیار بھی کشمیر سا ہے
تبھی نفرت میں الجھایا گیا ہے
میں زندہ تھا تو بوسیدہ پڑا تھا
مَرا تو خوب چمکایا گیا ہے
خدایا تم سے ملنا چاہتا تھا
تبھی آتش میں نہلایا گیا ہے
یہ خیمہ باغِ جنت میں لگا دو
اسے کربل میں جھلسایا گیا ہے
جگر میں حیدریؑ لالی ہے آفاق
تبھی سینے میں ٹھہرایا گیا ہے
آفاق دلنوی
آفاق احمد راتھر
No comments:
Post a Comment