ہمارے خط کا جواب لکھنا
قلم اٹھانا، کتاب لکھنا
اگر اجابت نہ ہو میسر
تو عمر بھر کا عذاب لکھنا
سدا مہکتا رہے گلستاں
چمن کی خاطر گلاب لکھنا
تمہارے دل میں نہ بس گیا تو
خوشی سے خانہ خراب لکھنا
بنی ہے تدریس پھر تجارت
زرا سنبھل کر نصاب لکھنا
سنا ہے فتنہ بپا ہوا ہے
نظر کی خاطر نقاب لکھنا
تم ہی نے برباد کر کے چھوڑا
تم ہی نئی آب و تاب لکھنا
مریضِ دل کو دوا کے بدلے
بہت بُرا ہے شراب لکھنا
لہو میں ڈوبی قلم سے آفاق
کوئی غزل انتخاب لکھنا
آفاق دلنوی
آفاق احمد راتھر
No comments:
Post a Comment