Friday, 17 December 2021

ذرا نہ ہم پہ کیا اعتبار گزری ہے

ذرا نہ ہم پہ کیا اعتبار گزری ہے

یہ روح جسم سے بیگانہ وار گزری ہے

ہمیں گماں بھی نہ تھا ان کی طبع نازک پر

ذرا سی بات ستائش کی بار گزری ہے

خرد کے زور سے ہمت کے بال و پر لے کر

کہاں کہاں سے یہ مشتِ غبار گزری ہے

کٹے گا کیسے یہ ویران بے سہارا دن

ابھی تو صرف شب انتظار گزری ہے

بدون زخم نہ روئیں گے پاؤں کے چھالے

بہے سرشک جہاں نوک خار گزری ہے

کہاں ہے عارض خورشید نیم روز کہ عمر

میان کاکل شب ہائے تار گزری ہے

چھپا لبوں پہ تبسم عیاں جبیں پہ شکن

ہنسی کی بات انہیں ناگوار گزری ہے

گئی جدھر سے وہ مدہوش ہو گئی محفل

مگر وہ شوخ نظر ہوشیار گزری ہے

عقب میں اپنے چھپائے ہزار ہا پیکاں

نظر کے سامنے مژگان یار گزری ہے

ہجوم شوق کے ہاتھوں گلے پہ حامد کے

نہ پوچھیے جو دم اختصار گزری ہے


سید حامد

No comments:

Post a Comment