Friday, 17 December 2021

یہ وقت جب بھی لہو کا خراج مانگتا ہے

یہ وقت جب بھی لہو کا خراج مانگتا ہے

ہمارے جسم میں زخموں کے پھول ٹانکتا ہے

یہ آفتاب نہیں دیتا چاند کو کرنیں

تمام دن کی مسافت کا درد بانٹتا ہے

بجھے گی کیسے خدا جانے اس کے پیٹ کی آگ

یہ سرخ سرخ سا سورج ستارے پھانکتا ہے

ہمارے صبر نے اس کو تھکا دیا اتنا

یہ معجزہ ہے کہ مقتل میں ظلم ہانپتا ہے

میں تیری شان فضیلت میں کیسے لکھوں غزل

مِرا قلم ہی نہیں حرف حرف کانپتا ہے

نہ جانے کون سے موسم کا ہے وہ دیوانہ

ابھی تلک انہیں گلیوں کی خاک چھانتا ہے

رضا میں نظریں ملاؤں تو کس طرح اس سے

حقیقتاً مِرے کردار میں وہ جھانکتا ہے


رضا مورانوی

No comments:

Post a Comment