Friday, 17 December 2021

ستم یوں مجھ پر وہ کر رہا ہے

 ستم یوں مجھ پر وہ کر رہا ہے

یہ من پسند اس کا مشغلہ ہے

قصور اپنا بتا رہا ہے

نسب کا لگتا ہے وہ بھلا ہے

اسے کبھی یار مت سمجھنا

قدم پہ حاجت سے گر پڑا ہے

کرو نا الفت کی بات پھر سے

عناد میں کیا کوئی مزا ہے؟

کرم کریں یا ستم کریں وہ

غریب دل صبر آزما ہے

نہیں ہے قاتل یہاں تو کوئی

لہو کا دریا یہ کیوں بہا ہے؟

سبھی کے لب پر وفا کے نغمے

بتا کہ پھر کون بے وفا ہے؟

وہ کیسے جھک جائے عاجزی سے

جو بے ثمر اک شجر کھڑا ہے 

محال ہے غم چھپا کے جینا

وجودِ نآزاں الم نما ہے

 

جبیں نازاں

No comments:

Post a Comment