ستم یوں مجھ پر وہ کر رہا ہے
یہ من پسند اس کا مشغلہ ہے
قصور اپنا بتا رہا ہے
نسب کا لگتا ہے وہ بھلا ہے
اسے کبھی یار مت سمجھنا
قدم پہ حاجت سے گر پڑا ہے
کرو نا الفت کی بات پھر سے
عناد میں کیا کوئی مزا ہے؟
کرم کریں یا ستم کریں وہ
غریب دل صبر آزما ہے
نہیں ہے قاتل یہاں تو کوئی
لہو کا دریا یہ کیوں بہا ہے؟
سبھی کے لب پر وفا کے نغمے
بتا کہ پھر کون بے وفا ہے؟
وہ کیسے جھک جائے عاجزی سے
جو بے ثمر اک شجر کھڑا ہے
محال ہے غم چھپا کے جینا
وجودِ نآزاں الم نما ہے
جبیں نازاں
No comments:
Post a Comment