تیری گلی میں اے میرے دلبر میں جان اپنی لٹا رہا ہوں
وفا کی دنیا کا پاسباں ہوں، وفا میں خود کو مٹا رہا ہوں
شبِ ہجر کے غموں کا مارا، چلا ہوں بے آس، بے سہارہ
لو آج تیرے وطن سے ظالم میں لاش اپنی اٹھا رہا ہوں
پڑے جو تیرے حسن کے پالے، رہے نہ قابو میں عشق والے
میں عاشقوں کی صفوں میں شامل چراغِ ہستی مٹا رہا ہوں
کبھی جو تیرا خیال آئے،۔ میرے کلیجے کو چیر جائے
تیرے تصور کے آئینے کو شگافِ حسرت دکھا رہا ہوں
زمانے بھر کے ستم سہے ہیں، تیری محبت کے راستے میں
تیری قرابت کی چاہتوں میں، میں خود کو سولی چڑھا رہا ہوں
تیرے وصل کی امید لے کر پڑا ہوں رستے میں سر بریدہ
لہو جگر کا پلا پلا کر،۔ چراغِ الفت جلا رہا ہوں
کسی سے آفاق دل لگا کر،۔ نظر چرانا بری ادا ہے
تجھے چرانی ہے تو چرا لے میں بس تجھی پر جما رہا ہوں
آفاق دلنوی
آفاق احمد راتھر
No comments:
Post a Comment