Thursday, 6 January 2022

وہ کہتا ہے کہ اس کے واسطے خنجر ضروری ہے

وہ کہتا ہے کہ اس کے واسطے خنجر ضروری ہے

نظر کے سامنے اک خونچکاں منظر ضروری ہے

بہت سی الجھنیں ہیں آج کل اونچے مکانوں میں

سکوں کے واسطے چھوٹا سا مجھ کو گھر ضروری ہے

بھروسہ قوتِ بازو پہ اپنی جو نہیں کرتا

محاذِ جنگ میں اس کے لیے لشکر ضروری ہے

یہی ہے فرق اس کے اور میرے درمیاں حائل

مجھے ہے پھول کی چاہت اسے پتھر ضروری ہے

ابھی تو پر نہیں نکلے میاں پھر بھی اچھلتے ہو

بلندی پر اڑانوں کے لیے شہ پر ضروری ہے

سعید اس آستیں کے سانپ سے غافل نہیں رہنا

اسے قابو میں کرنے کے لیے منتر ضروری ہے


سعید رحمانی

No comments:

Post a Comment