Thursday, 6 January 2022

مالی کو سازشوں پہ یوں اکسا دیا گیا

 مالی کو سازشوں پہ یوں اکسا دیا گیا

کلیاں بنیں نہ پھول یہ سمجھا دیا گیا

سچ بولنے کی جس نے جسارت کی دوستو

پھانسی پہ ایک دن اسے لٹکا دیا گیا

منزل مِرے نصیب میں لکھ دی گئی مگر

پر پیچ راستہ مجھے دکھلا دیا گیا

خود کو سمجھ رہے ہیں وہی لوگ ہوشیار

جن کو خرد کی راہ سے بھٹکا دیا گیا

پھر میکدے میں ٹوٹ گئی توبہ شیخ کی

جب مفت میں شراب کا پیالا دیا گیا

باپو نے جو دیا تھا سبق یاد ہے ہمیں

پھر زہر کیوں سماج میں پھیلا دیا گیا

مہنگائی فیض چھونے لگی ہے اب آسمان

دلی کے تخت پر کسے بیٹھا دیا گیا


فیض الامین

No comments:

Post a Comment