تیری محفل میں عجب رنگِ تماشا دیکھا
اپنی رُسوائی ہوئی، غیر کا چرچا دیکھا
اتنی کثرت سے ہوا جلوہ نمائی کا ظہور
ہم نے ہر نقشِ نمایاں کو بھی عنقا دیکھا
پھر بھی میں پا نہ سکا کوئی حقیقت کا سراغ
چاہے اوہام کا پردہ بھی سراپا دیکھا
ذوقِ نظارۂ فطرت سے گریزاں کیوں ہو
میں نے ہر ذرے کو سرگرمِ تماشا دیکھا
مندمل ہو نہ سکا زخمِ محبت، ہے ہے
یعنی، ناکام ہی اعجازِ مسیحا دیکھا
تیری نظروں میں بھی ہم لائقِ تعزیر رہے
اے خدا! تُو ہی بتا کیا کوئی ہم سا دیکھا
اپنی ہستی کی کُھلی مجھ پہ حقیقت راہی
اپنا موہوم سا جب نقشِ کفِ پا دیکھا
ریاض راہی
No comments:
Post a Comment