Thursday, 6 January 2022

آپ کی رہبری نہیں ہوتی

آپ کی رہبری نہیں ہوتی

زندگی زندگی نہیں ہوتی

روبرو تم سے گر نہیں آتے

دل کی دھڑکن تھمی نہیں ہوتی

ذکر جاناں نہ جس میں شامل ہو

بندگی بندگی نہیں ہوتی

مختلف ہے مزاج دونوں کا

نثر میں شاعری نہیں ہوتی

دل کے ماروں کو ملتی جو منزل

تو یہاں خودکشی نہیں ہوتی

وقت رہتے گلے لگا لو تم

پیار میں بے رخی نہیں ہوتی

تم اگر چھوڑ کر نہیں جاتے

غم زدہ زندگی نہیں ہوتی

لاکھ کوشش کروں مگر روشن

درد دل میں کمی نہیں ہوتی


روشن صدیقی

No comments:

Post a Comment