Thursday, 6 January 2022

مجھ کو شاہی نہیں توفیق فقیرانہ دے

مجھ کو شاہی نہیں توفیق فقیرانہ دے

رکھ مجھے بزم میں چاہے مجھے ویرانہ دے

بھر دے بھرنا ہے اگر عشق کا سودا سر میں

مجھ کو دینا ہے اگر جرأت رندانہ دے

آخرش حد بھی ہے ایثار کی کوئی کہ نہیں

شمع پر جان کہاں تک کوئی پروانہ دے

میں حقیقت کی تہیں کھول کے رکھ سکتا ہوں

مجھ کو ترتیب تو دینے کوئی افسانہ دے

یہ نہ اٹھیں گے کبھی سطح سے اپنی اوپر

ان خرد والوں کو شہہ کتنی بھی دیوانہ دے

عدل و انصاف روا تاکہ دوبارہ ہو جائیں

فیصلہ کرنے نہ منصف کو بھی من مانا دے

تو جو چاہے تو بدل جائے جہاں کی تصویر

انہیں شاہوں کو جو احساس فقیہانہ دے

کس کو اپنا کہیں اور غیر کہیں کس کو نہال

دے نہ اپنا کوئی کچھ اور نہ بیگانہ دے


نہال انصاری

No comments:

Post a Comment