تُو جا بجا ہے تُو سُو بسُو ہے
تُو کو بکو ہے تُو مو بمو ہے
ظاہِر بھی تُو ہے مظہر بھی تُو ہے
ہر سمت اپنے خود رو برو ہے
جلوہ بھی تیرا آنکھیں بھی تیری
منظور بھی تو ناظر بھی تُو ہے
دارالحرم میں بیت الصنم میں
تیری طلب میں اک ہاؤ ہو ہے
صحنِ چمن میں جنگل میں بَن میں
تُو رنگ و بُو ہے نشو و نمو ہے
رمزِ نِہاں تُو،۔ رازِ عیاں تُو
نایاب بھی تُو حاصل بھی تُو ہے
تُو تو کہاں ہے جب میں نہیں ہوں
جو کچھ ہے سو ہے میں ہوں نہ تُو ہے
تیری لگن تھی تُو مل گیا جب
نیرنگ کو پھر کیا آرزو ہے
غلام بھیک نیرنگ
No comments:
Post a Comment