Wednesday, 24 March 2021

جادۂ زیست پہ برپا ہے تماشا کیسا

 جادۂ زیست پہ برپا ہے تماشا کیسا

دوست بچھڑا ہے ہر اک گام پہ کیسا کیسا

دل کا آتش کدہ ویران پڑا تھا کب سے

آنکھ سے بہنے لگا آگ کا دریا کیسا

اس پہ تو فصل خزاں مار چکی ہے شبخوں

موسم گل کے گزر جانے کا کھٹکا کیسا

چاند سے چہرے نظر آنے لگے ہیں کتنے

کھُل گیا میری نگاہوں پہ دریچہ کیسا

جس میں اک اشک نہ ہو آنکھ کہاں ہے وہ آنکھ

بُوند پانی کی نہ ہو جس میں وہ دریا کیسا

بے تحاشا جو بڑھی جاتی ہے سُوئے گرداب

ناؤ نے دیکھ لیا اس میں کنارا کیسا

دیکھ محفل میں ہر اک آنکھ ہے نم یزدانی

تُو نے یہ چھیڑ دیا آج فسانہ کیسا


یزدانی جالندھری​

No comments:

Post a Comment