Sunday, 11 December 2016

وہ شخص لے تو گیا سر اتار کر میرا

وہ شخص لے تو گیا سر اتار کر میرا
بدل سکا نہ مگر نقطۂ نظر میرا
بجا کہ منزلِ دار و رسن بھی آ ہی گئی
یہیں پہ ختم نہ ہو گا مگر سفر میرا
ستم شعار کو پیارے ہیں خد و خال مِرے
وہ قتل کر کے سجائے گا گھر میں سر میرا
میں سوچتا تھا مِرے شعر میری دولت ہیں
مٹا سکا نہ مِری بھوک یہ ہنر میرا
میں کب تھا خانماں برباد ابر سے پہلے
کھنڈر ہے آج جہاں پر وہاں تھا گھر میرا
میں گر دعائے شبِ ہجر ہوں تو پھر خاورؔ
خدا کرے کہ وہی شخص ہو اثر میرا

خاور زیدی

No comments:

Post a Comment