وہ شخص لے تو گیا سر اتار کر میرا
بدل سکا نہ مگر نقطۂ نظر میرا
بجا کہ منزلِ دار و رسن بھی آ ہی گئی
یہیں پہ ختم نہ ہو گا مگر سفر میرا
ستم شعار کو پیارے ہیں خد و خال مِرے
میں سوچتا تھا مِرے شعر میری دولت ہیں
مٹا سکا نہ مِری بھوک یہ ہنر میرا
میں کب تھا خانماں برباد ابر سے پہلے
کھنڈر ہے آج جہاں پر وہاں تھا گھر میرا
میں گر دعائے شبِ ہجر ہوں تو پھر خاورؔ
خدا کرے کہ وہی شخص ہو اثر میرا
خاور زیدی
No comments:
Post a Comment