Sunday, 11 December 2016

نظم مکمل ہوتے ہوتے

نظم مکمل ہوتے ہوتے۔۔۔۔۔

کرچی کرچی
دل میں کوئی
درد بکھرنے لگتا ہے
آنکھوں کی آزاد فضا میں
خواب کے طائر
تِیروں سے بچ بچ کر 
پار اترتے ہیں
دھڑکن جگنو بن کر
اڑتی پھرتی ہے
انگلی کی پَوروں میں
آگ کی لپٹیں
رقصاں رہتی ہیں
تھوڑی دیر کو
دنیا سے ہر شۓ کٹ جاتا ہے
وقت کے ہونے اور نہ ہونے
کا احساس نہیں رہتا
کھوئی کھوئی سی رہتی ہے
ساری ہستی
روح پگھل کر
کاغذ پر آنے سے پہلے
لفظوں میں ڈھل جاتی ہے
نظم مکمل ہوتے ہوتے
شاعر آدھا رہ جاتا ہے
سب کی پیاس بجھانے والا
دریا پیاسا رہ جاتا ہے

محسن چنگیزی

No comments:

Post a Comment