Sunday, 11 December 2016

منشی تھے جس قدر بھی الحاج بن گئے ہیں

ایسی ویسی نظم

منشی تھے جس قدر بھی 
الحاج بن گئے ہیں 
دِیں سود پہ رکھا ہے 
ایمان کا خسارہ
جاری ہے ہر نفس میں 

نخوت نژاد سارے
اب فَقر ایلیا کی 
معراج بن گئے ہیں 
سیاسی بساط پر یہ
شطرنج کے وہ مہرے
پِٹ جاتے جو ہر دم 
یہ جیت کر بھی ہاریں
اور جشن بھی منائیں 
یہ نان و زر کی خاطر
مصلوب کر رہے ہیں 
اپنا ضمیر ہر دن 
میٹھی سروں میں اب بھی 
اپنے خودی کو پیارے 
لوری سنا رہے ہیں 
صوفی بنے ہیں تاجر
سالک ہیں مۓ کدے میں 
منبر پہ لن ترانی
اہلِ عبا کا پیشہ
شاعر تمام یاں کے
جذبہ فروش نکلے
سرمہ فروش نکلے 
آواز کے پیمبر
اس بیسوا تمدن کے بے ہوا قفس میں 
دم گھٹ رہا ہے میرا 
مرنے کے بعد مجھ کو تازہ ہوا میں رکھنا

محسن چنگیزی

No comments:

Post a Comment