يہی ملال ہے دریا کو اپنے پانی سے
کہ بہہ رہی ہے میری تشنگی روانی سے
میں اس کا ہاتھ کسی اور ہاتھ میں دے کر
بچا رہا ہوں محبت کو رائیگانی سے
تمہارے عشق نے سانسیں بحال رکھی ہے
اے زندگی! مِرا کردار جو بھی ہے لیکن
میں متفق تو نہیں ہوں تری کہانی سے
یہ ٹھیک ہے کہ ہیں آنکھں بھی ناسپاس مگر
میں در بدر ہوا اس دل کی مہربانی سے
محسن چنگیزی
No comments:
Post a Comment