Sunday, 11 December 2016

يہی ملال ہے دریا کو اپنے پانی سے

يہی ملال ہے دریا کو اپنے پانی سے
کہ بہہ رہی ہے میری تشنگی روانی سے
میں اس کا ہاتھ کسی اور ہاتھ میں دے کر
بچا رہا ہوں محبت کو رائیگانی سے
تمہارے عشق نے سانسیں بحال رکھی ہے
لگاؤ کس کو تھا ورنہ جہانِ فانی سے
اے زندگی! مِرا کردار جو بھی ہے لیکن
میں متفق تو نہیں ہوں تری کہانی سے
یہ ٹھیک ہے کہ ہیں آنکھں بھی ناسپاس مگر
میں در بدر ہوا اس دل کی مہربانی سے

محسن چنگیزی

No comments:

Post a Comment