سحر اس حسن کے خورشید کوں جا کر جگا دیکھا
ظہورِ حق کوں دیکھا، خواب دیکھا، با ضیا دیکھا
سجن کس کس مزا سے آج دیکھا مجھ طرف یارو
اشارت کر کے دیکھا، ہنس کے دیکھا، مسکرا دیکھا
میں دیکھا رات اس کی زلف کے بندوں کو
نہیں پایا مِرے رونے کوں اور فریاد کو بادل
برس دیکھا، جھڑی کو باندھ دیکھا، کڑکڑا دیکھا
نہیں ملتا مِرا نازک ہٹیلا، کیا کروں مظہرؔ
تصدق ہو کے دیکھا، پاؤں پڑ دیکھا، منا دیکھا
مرزا مظہر جان جاناں
No comments:
Post a Comment