Monday, 12 December 2016

رات کو عیش رہا گل رخسار کے سات

رات کو عیش رہا گلِ رخسار کے سات
جیسے بلبل خوش رہتی ہے گلزار کے سات
زلف کوں ہات لگاتے ہی، پکارا دل نے
جی چلا پینچ میں اس زلفِ گرہ گیر کے سات
دل بہا اس طرح سے اور ہو یارو
جان جاتا ہے جُدا مشک کی مہکار کے سات
اگرچہ اسلوب نہ ہو سکے تو کچھ انصاف کرو
زندگی کیونکہ کٹے ایسے ستمگار کے سات
ایک دم تھا سو بھی نہ رہا آیا نام میں دم مظہرؔ
جی گیا، جان گیا، دم میں چلا یار کے سات

مرزا مظہر جان جاناں

No comments:

Post a Comment