سواۓ دو لب شیریں مجھے خوش نہیں شکر پارے
حلاوت فہم دل کھانا میٹھے جگ کے سب کھارے
بوجھایا دلبرِ جانی نے آ کر ابرِ رحمت سے
رقیبوں نے نپٹ دھوکا دیئے ہیں غم کے انگارے
طبیب اب اٹھ جا سرہانے سیں علاج اب ہو چکا میرا
خدا جانے دیوانہ دل کدھر جاتا رہے گا
صبح سے شام لگ آہوں کے دوڑاتا ہے ہرکارے
شب اس مہتاب رو کی بزم میں مظہرؔ عرق افشاں
کلیجہ پھٹ گیا مہتاب کا، گرنے لگیں تارے
مرزا مظہر جان جاناں
No comments:
Post a Comment